ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ

ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ
وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ

اسی میں ہے پوشیدہ راز زمانہ
فسانہ حقیقت، حقیقت فسانہ

نہ اتراؤ صیاد کی دوستی پر
اسی باغ میں تھا مرا آشیانہ

ادھر نام تک مٹ رہا ہے کسی کا
ادھر بن رہا ہے کسی کا فسانہ

نہ پوچھو محبت کی پرواز باقیؔ
بہت دور تک ساتھ آیا زمانہ

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی