بولے منہ سے نہ مسکرائے

بولے منہ سے نہ مسکرائے
آئے مرے غمگسار آئے

دامن بھی نہ ہو جسے میسر
زخموں کو وہ کس طرح چھپائے

عنوان حیات بن گئے ہیں
جو تیری نظر نے گل کھلائے

ہے فرصت زہر خند کس کو
پھولوں کو صبا نہ گدگدائے

زخموں کو وہ چھیڑتے ہیں باقیؔ
لب پر کوئی بات آ نہ جائے

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے