ہجر کا رنج گھٹے ایسی دعا جانتا ہے

Oplus_131072

ہجر کا رنج گھٹے ایسی دعا جانتا ہے
تو کوئی ورد کوئی اسم بتا جانتا ہے

بس قیافوں پہ مجھے چھوڑ کے جانے والے
یہ ترا شہر مرے بارے میں کیا جانتا ہے

مشورے دیتے ہوؤں کو بھی کہاں ہے معلوم
اتنا معصوم نہیں اچھا برا جانتا ہے

تو نے کیا سوچ کے مضمون چرایا میرا
دین اسلام میں چوری کی سزا جانتا ہے

لوگ اس شخص کی مٹھی میں چلے آتے ہیں
وہ کلا کار کوئی ایسی کلا جانتا ہے

کومل جوئیہ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی