ہجر بخشا کبھی وصال دیا

ہجر بخشا کبھی وصال دیا

عشق نے جو دیا کمال دیا

ایک خط جو سنبھالنا تھا مجھے

جانے میں نے کہاں سنبھال دیا

شکر اس کا کروں ادا کیسے

جس نے حیرت دی اور سوال دیا

میری قسمت کا فیصلہ اس نے

معرض التوا میں ڈال دیا

خود کیا فیصلہ خلاف اپنے

مشکلوں سے اسے نکال دیا

سب کو دل کی بتاتا تھا تیمورؔ

میں نے پوچھا تو ہنس کے ٹال دیا

تیمور حسن تیمور

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی