خوار پھرتا ہوں جہاں میں

خوار پھرتا ہوں جہاں میں ٹھوکریں کھاتا ہوں میں
ٹھیر، پھر بھی ٹھیر اے عمرِ رواں آتا ہوں میں

طرزِ دنیا دیکھ کر مجھ سے رہا جاتا نہیں
کچھ نہیں تو آنکھ میں آنسو ہی بھر لاتا ہوں میں

آہ کیسا دوست میں نے کھودیا تیرے لئے
آج اپنے آپ کو رہ رہ کے یاد آتا ہوں میں

تو نہ رو میری تباہی پر خُدارا تو نہ رو
"تیرے آنسو دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہوں میں”

ماضی و موجود مستقبل کے پردے پر شعورؔ
"اک تماشا ہو رہا ہے دیکھتا جاتا ہوں میں”

انور شعورؔ​

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے