حسیں برگد کے سائے میں

حسیں برگد کے سائے میں ملاقاتیں پڑی ہوں گی
کہیں لہجے پڑے ہوں گے کہیں باتیں پڑی ہوں گی

چلو ان کو اٹھا کر اب کسی فائل میں رکھتے ہیں
مزاروں پر محبت کی مناجاتیں پڑی ہوں گی

تمہاری کامیابی میں بہت سے ہاتھ شامل ہیں
تم اپنی جیت میں دیکھو کئی ماتیں پڑی ہوں گی

بڑے خوشحال ہیں لیکن تمہارے ساتھ رو لیں گے
ہماری آنکھ میں اتنی تو برساتیں پڑی ہوں گی

محبت مار ڈالو گے تو اگلی نسل میں ساجد
کہیں مذہب کہیں فرقے کہیں ذاتیں پڑی ہوں گی

لطیف ساجد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی