بنانا پڑتا ہے پھر ماں کو رخصتی کا لباس

بنانا پڑتا ہے پھر ماں کو رخصتی کا لباس
جو چھوٹی بیٹی پہننے لگے بڑی کا لباس

سیاہ رنگ لبادے پہ خون کے چھینٹے
کئی سوال اٹھاتا ہے ماتمی کا لباس

اسی لیے کسی تقریب میں نہیں جاتے
اداس لوگوں پہ جچتا نہیں خوشی کا لباس

یہ رنگ و نسل ، قبیلہ ہے بعد کا قصہ
کہیں بھی پہلا تعارف ہے اجنبی کا لباس

اگر زبان نفاست پہ کار بند رہے
ہزار عیب چھپاتا ہے آدمی کا لباس

رضاۓ رب کے علاوہ نہیں ہے کچھ مقصود
کسی نگاہ کا طالب نہیں خودی کا لباس

گلے ملے تو عجب واقعہ ہوا ساجد
کسی کے اشک چُھپاتا رہا کسی کا لباس

لطیف ساجد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی