حریف

اے حریفِ جاں !
تمہیں یہ بات کہی نمناک نہ کر دے!
یہ انجان دوست بےباک نہ کر دے!
یہ غم جدائی کے قصے
وصل بہار کے فسانے
تیری حسین جبینوں میں اتر کر چاند کی مانند کوئی داغ نہ کر دے!
اور جب جب شب غم کے فسانے
مجھ سے وحشت کا پتا مانگے تب تب میں ہجر کی سفر نامے لکھ کر
اس دریا میں بہا آیا
جو تیرے گھر کی پاس سے گزرتا ہے
جس میں ہر شب تیرا عکس اترتا ہے !

نگار فاطمہ انصاری

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا