ہر صدا تھک کے لوٹ آئی مری

ہر صدا تھک کے لوٹ آئی مری
کوئی سنتا نہیں دہائی مری

جس قدر دیکھ سُن کے لگتی ہے
اتنی آساں نہیں رسائی مری

بعد میں منہ کے بَل گری ہوں میں
پہلے آواز ڈگمگائی مری

وصلِ خانہ خراب یہ مت چھین
غم ہے اک عمر کی کمائی مری

پھر کسی نے دکھائی کر کے مجھے
پھر محبت سمجھ میں آئی مری

میں بچاتی ہوں ہوں جس کو خفّت سے
کرنے لگتا ہے وہ برائی مری

آ لگا مجھ کو آخری پتھر
اب مکمل ہے پارسائی مری

صائمہ آفتاب

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا