ہمیشہ خیر رہے ، دن ہرے بھرے جائیں

ہمیشہ خیر رہے ، دن ہرے بھرے جائیں
ہمارا کام دعا ہے سو ہم کرے جائیں

حضور حجرۂ دل ہے یہ کوئی باغ نہیں
کہاں ٹہلنے نکل آئے ہیں ارے ! جائیں

پہنچنے والا ہے وارث یہاں کا مدت بعد
سجائی جائے حویلی ، دئیے دھرے جائیں

بشر کے ہاتھ تمدن کا تیز کلہاڑا
کہ جس سے پیڑ کٹیں ، جانور مرے جائیں

تُو نامِ مولا علی لے، عجب کرامت دیکھ
قریب آئیں محب ، دوغلے پرے جائیں

ہمیں اتارا گیا بیچ راہ یہ کہہ کر
یہاں سے آگے محبت کے آسرے جائیں

صائمہ آفتاب

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا