ہر قدم پر جو اتنا روتے ہو

ہر قدم پر جو اتنا روتے ہو
کس تمنا کا بوجھ ڈھوتے ہو

ہر کسی سے گریز کیا مطلب
آج کل کیوں ہوا میں ہوتے ہو

اس کا مطلب ہے دیکھ لی دنیا
بات کرنے سے پہلے روتے ہو

چاند پر جا بسو گے کیا تم سب
نفرتیں اس قدر جو بوتے ہو

یہ خدائی صفت بھی ہے تم میں
دور رہ کر قریب ہوتے ہو

تم اذیت پسند ہو خالدؔ
اپنے اشکوں سے زخم دھوتے ہو

خالد ندیم شانی 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی