ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا

ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا

یہ دل تو کوئی کام بھی ہونے نہیں دیتا

تم مانگ رہے ہو مرے دل سے مری خواہش

بچہ تو کبھی اپنے کھلونے نہیں دیتا

میں آپ اٹھاتا ہوں شب و روز کی ذلت

یہ بوجھ کسی اور کو ڈھونے نہیں دیتا

وہ کون ہے اس سے تو میں واقف بھی نہیں ہوں

جو مجھ کو کسی اور کا ہونے نہیں دیتا

عباس تابش

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی