ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے

ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے

ہمارے خواب دئے جائیں دل بنایا جائے

دکھائی دیتا ہے تصویر جاں میں دونوں طرف

ہمارا زخم ذرا مندمل بنایا جائے

اگر جلایا گیا ہے کہیں دیے سے دیا

تو کیا عجب کہ کبھی دل سے دل بنایا جائے

شدید تر ہے تسلسل میں ہجر کا موسم

کبھی ملو کہ اسے معتدل بنایا جائے

یہ نقش بن نہیں سکتا تو کیا ضروری ہے

خراب و خستہ و خوار و خجل بنایا جائے

ذوالفقار عادل

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے