گزرے دن رات بھول جاتے ہیں

گزرے دن رات بھول جاتے ہیں
لوگ ہر بات بھول جاتے ہیں

جن کی عزت کرو وہی اکثر
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں

لوگ زر کو سلام کرتے ہیں
پیشہ و ذات بھول جاتے ہیں

جن کے کاندھوں پہ بوجھ ہو گھر کا
ان کو دن رات بھول جاتے ہیں

ٹوہ لیتے ہوئے کسی کی ہم
اپنی حرکات بھول جاتے ہیں

ظاہری حسن دیکھنے والے
حسنِ عادات بھول جاتے ہیں

جن کو مل جائے پیار کٹیا میں
وہ محلات بھول جاتے ہیں

منزہ سیّد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان