گوشے گوشے پہ کوئی نقشِ قدم بنتا ہے

گوشے گوشے پہ کوئی نقشِ قدم بنتا ہے
بنتے بنتے کسی رستے کا بھرم بنتا ہے

کہیں اشکوں کے ذخیرے سے اُبھر آتی ہے آنکھ
کوئی مجموعہِ الفاظ قلم بنتا ہے

جس طرح رکھا گیا تھا مرا دل سینے میں
اب محلات میں شاہوں کا حرم بنتا ہے

بیج گملوں میں کبھی پیڑ نہیں بن پاتا
دکھ ترے ہجر میں آتا ہے تو غم بنتا ہے

میرے نیندوں میں جگہ ڈھونڈنے والے مرےدوست!
نم کسی آنکھ میں ہوتا نہیں، نم بنتا ہے

تیری خوشبو سے ترے شہر کا نقشہ سمجھا
اس حوالے سے مرا فاصلہ کم بنتا ہے

حارث بلال 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا