گوش بر دیوار ہے

گوش بر دیوار ہے
کس قدر آزار ہے

چارہ گر ہے اِس طرف
اُس طرف بیمار ہے

تیر پیچھے سے لگے تو
دوستوں کا وار ہے

دائرہ در دائرہ
گھومتی پرکار ہے

لوٹتا کوئی نہیں
جانے کیا اس پار ہے

اس قدر اصرار ہے تو
جائیے انکار ہے

پھول جیسے ھاتھ میں
آج کل تلوار ہے

کوچہ ۶ دلدار سے
دو قدم پہ دار ہے

در بنانا چاہتا ہوں
سامنے دیوار ہے

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں