گھر سے نکلیں دف بجائیں جادوگر کے ہاتھ سے

گھر سے نکلیں دف بجائیں جادوگر کے ہاتھ سے
مفت کی روٹی کمائیں جادوگر کے ہاتھ سے

ٹل رہی ہو جنگ جیسے اک بڑے تھیٹر کے بیچ
اڑ رہی ہیں فاختائیں جادوگر کے ہاتھ سے

میں نے اپنے ہاتھ سے نیلم پری تیار کی
آپ جادوگر بنائیں جادوگر کے ہاتھ سے

تم اگر سوکھے درختوں پر اگاو قصہ خواں
ہم کہانی توڑ لائیں جادوگر کے ہاتھ سے

خوبرو لڑکی کے دو حصے پڑے ہیں میز پر
حیرتی مر ہی نہ جائیں جادوگر کے ہاتھ سے

عاطف کمال رانا

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے