گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے

گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے
منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے

جیتے رہیں گے کیونکر ہم اے طبیب ناداں
بیمار ایسے تس پر مطلق دوا نہ پہنچے

لائق ترے نہیں ہے خصمی غیر لیکن
وہ باز کیونکے آوے جب تک سزا نہ پہنچے

ہر چند بہر خوباں سر مسجدوں میں مارے
پر ان کے دامنوں تک دست دعا نہ پہنچے

بن آہ دل کا رکنا بے جا نہیں ہمارا
کیا حال ہووے اس کا جس کو ہوا نہ پہنچے

اپنے سخن کی اس سے کس طور راہ نکلے
خط اس طرف نہ جاوے قاصد گیا نہ پہنچے

وہ میر شاہ خوبی پھر قدر دور اس کی
درویش بے نوا کی اس تک صدا نہ پہنچے

میر تقی میر

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے