فلم “ہجرت” کا تھیم ہیں ہم لوگ

فلم “ہجرت” کا تھیم ہیں ہم لوگ
اک طرح سے یتیم ہیں ہم لوگ

زندگی ! تم نئی نئی ہو ابھی
اپنے غم سے قدیم ہیں ہم لوگ

روشنی کے لئے بنائے گئے
طاقچے میں مقیم ہیں ہم لوگ

سوچنا ہے کہ ہم کہاں پر ہیں
اور کتنے عظیم ہیں ہم لوگ

کل بھی اپنی جگہ ملیں گے تمہیں
آج بھی مستقیم ہیں ہم لوگ

کیا ہمارا شمار عارضی تھا ؟
یار ! اتنے اثیم ہیں ہم لوگ؟

بات کرنے کو ہے نہیں بہنام
سوچتے تھے ندیم ہیں ہم لوگ

بہنام احمد

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے