فسوں گر لمحہ

فسوں گر لمحہ

جب چاند کی اُجلی کرنوں نے
اِس شب کا دامن اُجلایا
جب رات کی رانی چہک اٹھی
اور ہر جھونکے کو مہکایا
دریا بھی تھما آوازوں کا
اور چُپ نے لنگر پھیلایا
جب ٹھہرے جھیل کے پانی پر
اِک چاند کا عکس اُتر آیا
اور لمحوں نے دھیرے دھیرے
پھر اپنے فسوں کو پھیلایا
تب ایسے میں تم جانتے ہو !
مجھے کون بھلا پھر یاد آیا؟

شازیہ اکبر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی