علاج بالمثل

علاج بالمثل

نشتر زخم لگاتا ہے تو نشتر سے کھلواتا ہوں

سلواتا ہوں

پھنیر نیل اتارتا ہے تو منکے میں رسواتا ہوں

کھنچواتا ہوں

پانی میں گرمی گھولتا ہے

تو پانی کا ٹھنڈا پیالہ منگواتا ہوں

جب شب زندہ داری میں مے چڑھتی ہے

تو صبح صبوحی کی سیڑھی لگواتا ہوں

عورت چرکا دیتی ہے تو عورت کو بلواتا ہوں

دکھلاتا ہوں

اک عادت کے گھاؤ پہ دوسری عادت باندھا کرتا ہوں

میں عورت کے زخم کے اوپر عورت باندھا کرتا ہوں

ڈاکٹر وحید احمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے