ایک ذرہ بھی نہ مل پائے

ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو

زندگی تو نے کہاں لا کے بکھیرا مجھ کو

سفر شب میں تو پھر چاند کی ہم راہی ہے

کیا عجب ہو کسی جنگل میں سویرا مجھ کو

میں کہاں نکلوں گا ماضی کو صدائیں دینے

میں کہ اب یاد نہیں نام بھی میرا مجھ کو

شکوۂ حال‌ سیہ گردش دوراں سے نہیں

شام باقی تھی کہ جب رات نے گھیرا مجھ کو

شعیب بن عزیز

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی