ایک موہوم سی امید پہ چل پڑتا ہے

ایک موہوم سی امید پہ چل پڑتا ہے
روشنی دل کو دکھائیں تو اچھل پڑتا ہے

اے مری سانس گذارش ہے کہ آہستہ چل
ایک درویش کی خلوت میں خلل پڑتا ہے

بارِ احسان کوئی اس کو گوارا ہی نہیں
میری خود داری کے ماتھے پہ جو بل پڑتا ہے

دل میں آنا تو بہت سوچ سمجھ کر آنا
اس کے رستے میں سلگتا ہوا تھل پڑتا ہے

عشق تو ایک مسافت ہے بیابانوں کی
اس کے رستے میں کہاں تاج محل پڑتا ہے

پوچھتے کیا ہو  مزاجِ دلِ دلشاد ہے کیا
یہ دیا پیار کی اک آنچ سے جل پڑتا ہے

دلشاد احمد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان