ایک آواز لگائی ہے کسی نے مجھ کو

ایک آواز لگائی ہے کسی نے مجھ کو
اور محبت کی طرف دوڑ کے جاتا ہوا میں

ایک تو ہے کہ جسے یاد نہیں آتی مری
اور جہاں بھر کو ترے گیت سناتا ہوا میں

ایک تصویر بنانی ہے مجھے جس میں دِکھے
اپنے ہاتھوں سے تجھے جام پلاتا ہوا میں

دیکھا جاتا ہوں ترے شہرِ وفا میں اکثر
اپنے ہونے کے نشانات مٹاتا ہوا میں

زین محکم

Related posts

مردانگی

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

پروفیسر محمد فرید