اب یہ عالم ہے ! بات کرنے کو

اب یہ عالم ہے ! بات کرنے کو
ہم خدا کو پکار اٹھتے ہیں

حکم آتے ہی تیری جانب سے
سر پھرے بے شمار اٹھتے ہیں

دل محلہ ہے سر فروشوں کا
ایک جائے ، ہزار اٹھتے ہیں

شام ہوتے ہی منتظر تیرے
راہ سے بے قرار اٹھتے ہیں

حق کو باطل پہ برتری دینے
خاک سے شہسوار اٹھتے ہیں

زین محکم

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

تقوی کی اعلی مثال