دشمنوں کو مرے ہم راز کرو گے شاید

دشمنوں کو مرے ہم راز کرو گے شاید

وقت تنہائی میں آواز کرو گے شاید

تم بہت تیز ہو شہ زور ہو استاد بھی ہو

تم بنا پر کے بھی پرواز کرو گے شاید

یہ کھلا جسم کھلے بال یہ ہلکے ملبوس

تم نئی صبح کا آغاز کرو گے شاید

تلخ انداز سے بدلو گے زمانے کا مزاج

اپنے اطراف کو ناساز کرو گے شاید

تم تو خاموش ہو لو میں ہی ذرا بولتا ہوں

بات سے بات کا آغاز کرو گے شاید

افروز عالم

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا