دریا وہ کہاں رہا ہے جو تھا

دریا وہ کہاں رہا ہے جو تھا

یہ شہر کا آخری قصہ گو تھا

جو خاک سی دل میں اڑ رہی ہے

یاں کوئی غزال ہو نہ ہو تھا

اب سے یہ ہمارا گھر نہیں خیر

پہلے بھی نہ تھا خیال تو تھا

ثابت نہیں کر سکو گے تم لوگ

کیا میرا وجود تھا چلو تھا

دونوں گھڑیوں پر ہجر کا وقت

ہونا نہیں چاہیے تھا سو تھا

اس خواب میں کیا نہیں دراصل

بس کہہ تو دیا نا خواب جو تھا

ادریس بابر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل