دل کا حریف مے کا پیالہ نہ ہو سکا

دل کا حریف مے کا پیالہ نہ ہو سکا
وہ غم ملا کہ جس کا ازالہ نہ ہو سکا

موج صبا کے ساتھ چلی گلستاں کی بات
بدنام پھول توڑنے والا نہ ہو سکا

باقیؔ دلوں میں آ گئی سڑکوں کی تیرگی
بجلی کے قمقموں سے اجالا نہ ہو سکا

باقی صدیقی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل