دل میں یوں بے خودی تمھاری ہے

دل میں یوں بے خودی تمھاری ہے
جیسے یہ زندگی تمھاری ہے

نغمگی سے بھرا ہوا ہے گھر
ہاں مگر اک کمی تمھاری ہے

میرا سب کچھ تمہارے دم سے ہے
درد ہے یا خوشی تمھاری ہے

یہ جو کلیوں کے لب پہ رقصاں ہے
ہوبہو یہ ہنسی تمھاری ہے

میرے ہمراہ جاگنے والوں
اب میری نیند بھی تمھاری ہے

میرا خیال میری سوچ اور تہمینہ
یعنی سب شاعری تمھاری ہے

تہمینہ مرزا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی