دیکھا تھا ایک دن اسے

دیکھا تھا ایک دن اسے ہم نے پکار کے
انعام پھر نہ پوچھیے پروردگار کے

کل پھر کوئی جوان، جہاں سے گزر گیا
لاحق تھے اس غریب کو غم روز گار کے

کہتے ہیں ہر قدم پہ ملائک خوشآمدید
جاتے ہیں ہم جو ہجر کی ساعت گزار کے

بے کار اپنی جیت پہ اترا نہ اس قدر
فاتح بنایا ہے تجھے دانستہ ہار کے

میں ہوں، اداس شام ہے، اور مستقل خزاں
"تم کیا گئے، کہ روٹھ گئے دن بہار کے”

روبینہ شاد

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں