پہلے تو بے وفائی کا صدمہ

پہلے تو بے وفائی کا صدمہ بھی دیجیے
پھر اس کے بعد خود ہی دلاسہ بھی دیجیے

کِذب و فریب آپ کی فطرت ہے جانِ مَن
جی بھر کے جھوٹ بولیے، دھوکا بھی دیجیے

لے آئے ہیں جو پیار سے گجرے خرید کر
ان کو ہمارے ہاتھ میں پہنا بھی دیجیے

کافی نہیں خلوص و محبت ہی بھائی جان
بہنوں کو جائداد میں حصہ بھی دیجیے

چل تو پڑی ہے شوقِ سفر میں روبینہ شاد
منزل پہ خاک سار کو پہنچا بھی دیجیے

روبینہ شاد

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی