اس حویلی کی دیواریں اب بہت اونچی ہو چکی تھیں، لیکن ان دیواروں کو اٹھانے والا مزدور اندر سے ریزہ ریزہ ہو رہا تھا۔ دوپہر کا سورج جب آگ برسا رہا ہوتا، تو وہ مستری کے اشاروں پر اینٹیں ڈھوتا، گارا بناتا اور اس کے ہاتھوں کی لکیروں میں چونے کی سفیدی کے بجائے درد کی سیاہی اتر آتی۔ اسے کچھ یاد نہیں رہتا تھا، سوائے اپنی بیوی کے ان آخری الفاظ کے، جو اس نے گھر سے نکلتے وقت اس کے کانوں میں انڈیلے تھے: "دیکھو! عید سر پر ہے اور بیٹی کی شادی کی تیاریاں شروع کرنی ہیں۔ وہ ضد کر رہی ہے، اسے سرخ جوڑا چاہیے اور کلائیوں میں سجنے والی چوڑیاں۔ تم جی لگا کر محنت کرنا، اس بار خالی ہاتھ مت لوٹنا، ورنہ بیٹی کا دل ٹوٹ جائے گا۔”
ان الفاظ نے اس کے جسم میں ایک عجیب سی تڑپ بھر دی تھی۔ وہ ٹھیکیدار کے سامنے ہاتھ جوڑتا، اپنی دیہاڑی مانگتا، مگر ٹھیکیدار کی بے حسی کو دیواروں کی مضبوطی سے کوئی سروکار نہ تھا۔ وہ ہر بار ٹال دیتا، "کل دوں گا، کام ختم ہونے دو، عید تک تو پیسے تیرے ہاتھ میں ہوں گے۔” وہ مزدور، جو اپنی بیٹی کے خوابوں کے لیے اپنی ہڈیاں پسوا رہا تھا، ہر بار ایک نئے جھوٹ پر یقین کر لیتا۔
عید میں اب صرف تین دن باقی تھے۔ اس نے ٹھیکیدار سے آخری بار التجا کی، مگر اسے دھتکار دیا گیا۔ اب اس کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ اسے لگا کہ اگر وہ عید سے پہلے نہ پہنچا، تو بیٹی کا خواب ہمیشہ کے لیے ادھورا رہ جائے گا۔ وہ اپنی نامکمل مزدوری، ٹوٹی ہوئی ہمت اور خالی جیب کے ساتھ پیدل ہی گاؤں کی راہ پر نکل پڑا۔
سڑکیں لمبی تھیں اور اس کا وجود تھکن سے چور۔ راستے کے پتھر اس کے پیروں کو چیر رہے تھے، مگر اسے صرف وہ سرخ جوڑا نظر آ رہا تھا جو اس نے تصور میں بیٹی کے لیے خریدا تھا۔ جب وہ گاؤں کی حدود میں داخل ہوا، تو سورج ڈھل چکا تھا۔ اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، سینے میں ایک ایسی جلن تھی جیسے کسی نے اندر انگارے رکھ دیے ہوں۔ اسے وہ الفاظ یاد آ رہے تھے، "بابا، عید سے پہلے آ جانا، مجھے چوڑیاں لینی ہیں۔”
وہ لڑکھڑاتا ہوا، کسی سائے کی طرح اپنے گھر کی دہلیز تک پہنچا۔ اندر سے خوشبو آ رہی تھی، شاید بیوی عید کی تیاریوں میں لگی تھی۔ اس نے دہلیز پر پاؤں رکھا۔ اسے لگا کہ وہ پہنچ گیا ہے۔ اس نے ایک بار آسمان کی طرف دیکھا، جیسے کسی ادھورے وعدے کی معذرت کر رہا ہو۔ پھر اس کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور وہ دھڑام سے دہلیز پر آ گرا۔
گھر کا دروازہ کھلا، تو بیوی اور بیٹی کی چیخیں رات کے سناٹے میں گونج اٹھیں۔ وہ عید سے پہلے آ تو گیا تھا، لیکن اس کے ہاتھ خالی تھے۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی سرخ جوڑے اور چوڑیوں کی چمک بسی تھی، مگر وہ ہمیشہ کے لیے بجھ چکی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کی آخری اینٹ اپنے ہی گھر کی دہلیز پر رکھی تھی، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے سو گیا تھا۔ اس کے ٹھنڈے ہوتے ہاتھوں میں کوئی دولت نہ تھی، صرف ٹھیکیدار کی بے حسی اور بیٹی کے ادھورے خوابوں کا بوجھ تھا۔
یہ اس مزدور کی داستان ہے جس نے زندگی تو دے دی، مگر وعدہ نبھانے کی قیمت میں صرف کفن پایا۔
پیر انتظار حسین مصور