دیکھا تو تھا یوں ‌ہی کسی غفلت شعار نے

دیکھا تو تھا یوں ‌ہی کسی غفلت شعار نے
دیوانہ کر دیا دلِ بے اختیار نے

اے آرزو کے دھندلے خرابو؟ جواب دو
پھر کس کی یاد آئی تھی مجھ کو پکارنے

تجھ کو خبر نہیں، مگر اک سادہ لوح کو
برباد کر دیا ترے دو دن کے پیار نے

میں اور تم سے ترکِ محبت کی آرزو
دیوانہ کر دیا ہے غمِ روزگار نے

اب اے دلِ تباہ ترا کیا خیال ہے
ہم تو چلے تھے کاکلِ گیتی سنوارنے

ساحر لدھیانوی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی