داغ ہوں جلتا ہے دل بے طور اب

داغ ہوں جلتا ہے دل بے طور اب
دیکھیے کیا گل کھلے ہے اور اب

زخم دل غائر ہو پہنچا تا جگر
تم لگے کرنے ہماری غور اب

شعر پڑھتے پھرتے ہیں سب میر کے
اس قلمرو میں ہے ان کا دور اب

میر تقی میر

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں