چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی

چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی

انتہا تھی یہ دل ربائی کی

مائلِ غمزہ ہے وہ چشمِ سیاہ

اب نہیں خیر پارسائی کی

دام سے اُس کے چھوٹنا تو کہاں

یاں ہوس بھی نہیں رہائی کی

ہوکے نادم وہ بیٹھے ہیں خاموش

صلح میں شان ہے لڑائی کی

اس تغافل شعار سے حسرت

ہم میں طاقت نہیں جدائی کی

حسرت موہانی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا