چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی

چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی
اب مسافت ہے زندگی بھر کی

جو لکیریں ہمارے ہاتھ کی ہیں
بات ساری ہے یہ مقدر کی

وہ محبت خرید لائے گی
وہ تو بیٹی ہے ایک تاجر کی

میں حقیقت بیان کرتا ہوں
میں اڑاتا نہیں ہوں بے پر کی

وہ تو بس بات کرتا جاتا ہے
سیر کرتا ہوں میں سمندر کی

میں اکیلا لڑوں گا دشمن سے
میں قیادت کروں گا لشکر کی

میری چڑیوں سے دوستی ہے کلیم
ایک رونق ہے میرے اندر کی

کلیم احسان بٹ

Related posts

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

کیا ہم بے وقوف ہیں؟