چاندنی رات میں بلاؤں تجھے

چاندنی رات میں بلاؤں تجھے

دھڑکنیں دل کی میں سناؤں تجھے

تیرے پہلو میں رکھ کہ دل اپنا

چاند راتوں میں گنگناؤں تجھے

کچھ کہے ان کہے سوال کروں

اور یوں پھر سے آزماؤں تجھے

اپنی ہستی کو بھول سکتی ہوں

کیسے ممکن ہے بھول جاؤں تجھے

آنسوؤں کی تپش میں جلتی ہوں

کاش اس میں کبھی جلاؤں تجھے

بینا گوئندی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی