چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا

چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا
عکس تالاب سے اُبھرتا تھا

یار اوروں کی بات کرتا تھا
رنگ تصویر میں بدلتا تھا

جو تری حسرتوں پہ ہستا تھا
وہ مری بے بسی پہ روتا تھا

بند کمرے میں جب تہلتا تھا
عکس دیوار سے نکلتا تھا

سامنے سے کہاں گزرتا تھا
وہ جو وارفتگی سے ملتا تھا

پیڑ کا سانس بھی اُکھرتا تھا
جب پرندہ اُڑان بھرتا تھا

رانا عثمان احا مر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی