چل پڑی ایسی ہوا

چل پڑی ایسی ہوا خاک اڑانے والی
راہ میں جلتے چراغوں کو بجھانے والی

زرد موسم کی تپش سے یوں پریشان نہ ہو
اسکی رحمت ہے بہت جوش میں آنے والی

ایسی تمثیل کوئی ہو تو میں واضح کر دوں
دریا کے بارے میں ، صحرا کو بتانے والی

کافی دلچسپ سی ہوتی ہیں ادھوری باتیں
سرد پانی پہ بہت آگ لگانے والی

تیری مرضی ہے مجھے غیر سمجھ لے لیکن
میں ترا ساتھ نہیں چھوڑ کے جانے والی

میں بھی لوگوں سے ذرا دور رہا کرتی ہوں
اسکی عادت بھی نہیں ملنے ملانے والی

کچھ تصاویر تو البم کے لیے ہوتی ہیں
اور چند ایک فریموں میں سجانے والی

شہلا خان

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے