چھاؤں میں بیٹھوں اجازت نہیں دیتا ہے مجھے

چھاؤں میں بیٹھوں اجازت نہیں دیتا ہے مجھے
پیڑ اتنی بھی سہولت نہیں دیتا ہے مجھے

میرے حصے کی محبت نہیں دیتا ہے مجھے
اور سمجھتا ہے اذیت نہیں دیتا ہے مجھے

شعر کہنے کی سہولت نہیں دیتا ہے مجھے
ہجر اس درجہ بھی وحشت نہیں دیتا ہے مجھے

اک تو ہجرت کی اجازت نہیں دیتا ہے مجھے
دوسرا دل پہ حکومت نہیں دیتا ہے مجھے

کیوں نہیں آتی قیامت, نہیں دیتا ہے مجھے
زندہ رہنے کی وہ صورت نہیں دیتا ہے مجھے

جتنی درکار ہے وحشت نہیں دیتا ہے مجھے
درد بھی حسبِ ضرورت نہیں دیتا ہے مجھے

سفَرِ ہجر و مسافت نہیں دیتا ہے مجھے
ایسی ارشاد وہ قسمت نہیں دیتا ہے مجھے

ارشاد نیازی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا