ایبسٹریکٹ

ایبسٹریکٹ
(Abstract)

جسم جل گئے
کہ لڑکیاں گلابوں میں چھپی رہیں
اور آستیں کے سانپ کالروں تک آ گئے
سمندروں کے پار
کشتیوں میں مانجھیوں نے گیت گائے اور سو گئے
گلہریاں بھی جمع کر کے پھل کہیں دبا کے آگئیں
جہاں پہ آبشار پھوٹتی ہے اس جگہ
نحیف شیر جا کے چھپ گیا
پہاڑیوں میں کھیلتا ہوا بدن بھی زہر میں بجھے
کئی طرح کے تیر کھا کے گر پڑا
کہیں پہ بارشوں کا شور
رقص کرتے مور کو عطا ہوا
جو رات خواب میں
کسی کو چوم کر نڈھال ہو گیا

تجدید قیصر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے