چارہ گر

چارہ گر !
میرے لیئے کبھی
تم گھنے
سایہ دار درخت
کی طرح ھو
ٹھنڈی میٹھی
چھاؤں جیسے
کبھی تپتے
صحرا جیسے
جسم و جاں کو
جھلسا دینے والے
کبھی بہتے دریا جیسے
پرسکون
کبھی گلے میں اٹکی
پھانس کی طرح
نہ سانس روکے
نہ سانس آنے دے
بتاؤ ناں اے میرے چارہ گر !
تیرا کون سا روپ
امر ھے

اسماء بتول

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی