بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ

بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
سو دل بھی بیٹھتا جاتا ہے اب غبار کے ساتھ

پٹخ چکی ہے مری ناؤ کو چٹان مگر
میں گر رہا ہوں ابھی تک اس آبشار کے ساتھ

شجر کا راج نہ تھا ابر کا رواج نہ تھا
پھر ایک پھول ملا باد ریگ زار کے ساتھ

کسے خبر کہ نوالہ ہے کس اندھیرے کا
جو خواب دیکھتا ہوں چشم‌ آب دار کے ساتھ

سفر کیا تھا کسی اور زندگی کے لیے
مگر پلٹنا پڑا شام انتظار کے ساتھ

کسی مدار کے دھوکے میں بے خبر شارقؔ
الجھ رہے ہیں ستارے مرے حصار کے ساتھ

سعید شارق

Related posts

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں