بہت سر سبز جو تم نے شجر رکھا ہوا ہے

بہت سر سبز جو تم نے شجر رکھا ہوا ہے
خزاں کا اس میں بھی کچھ کچھ اثر رکھا ہوا ہے

پرندے اڑ رہے ہیں ہر طرف یہ جو پریشاں
ہوائے تیز میں ان کا سفر رکھا ہوا ہے

لپٹتے جا رہے ہیں سائے جو قدموں سے میرے
دیئے کی لو کو میں نے ہاتھ پر رکھا ہوا ہے

زمانہ دے رہا ہے زہر مجھ کو لمحہ لمحہ
خطا یہ ہے کہ مجھ میں اک ہنر رکھا ہوا ہے

عتیق اپنوں سے اتنی دور کس کو ڈھونڈتے ہو
خلا میں کس لیے تم نے سفر رکھا ہوا ہے

ملک عتیق

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان