بود نقش و نگار سا ہے کچھ

بود نقش و نگار سا ہے کچھ
صورت اک اعتبار سا ہے کچھ

یہ جو مہلت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو تو انتظار سا ہے کچھ

منھ نہ ہم جبریوں کا کھلوائو
کہنے کو اختیار سا ہے کچھ

منتظر اس کی گرد راہ کے تھے
آنکھوں میں سو غبار سا ہے کچھ

ضعف پیری میں زندگانی بھی
دوش پر اپنے بار سا ہے کچھ

کیا ہے دیکھو ہو جو ادھر ہر دم
اور چتون میں پیار سا ہے کچھ

اس کی برہم زنی مژگاں سے
دل میں اب خار خار سا ہے کچھ

جیسے عنقا کہاں ہیں ہم اے میر
شہروں میں اشتہار سا ہے کچھ

میر تقی میر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی