بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک

بنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک

حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی

تو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک

میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگر

میاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک

طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میں

یہ غیرتیں یہ حرارت یہ گرمیاں کب تک

عوام باندھ لیں دوہر تو تھرڈ وانٹر میں

سکنڈ‌ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک

جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیس

چھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک

جناب حضرت اکبرؔ ہیں حامئ پردہ

مگر وہ کب تک اور ان کی رباعیاں کب تک

اکبر الہ آبادی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی