بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

کہ سچ تو یہ ہے وہ اک شخص میرا تھا بھی نہیں

میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا

مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں

عجیب راہگزر تھی کہ جس پہ چلتے ہوئے

قدم رکے بھی نہیں راستا کٹا بھی نہیں

دھواں سا کچھ تو میاں برف سے بھی اٹھتا ہے

سو دل جلوں کا یہ ایسا کوئی پتا بھی نہیں

رگوں میں جمتے ہوئے خون کی طرح ہے سعود

وہ حرف ہجر جو اس نے ابھی کہا بھی نہیں

سعود عثمانی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی