بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک

بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک گزار سکتی تھی
یہ بوجھ کیسے اکیلے سہار سکتی تھی

کہ عمر لگتی ہے اک آ شیاں بنانے میں
جنوں میں آ کہ یہ کیسے اجاڑ سکتی تھی

میرے غرور کی دھجیاں بکھیر کہ رکھ دیں
میں تجھے چیخ کہ کیسے پکار سکتی تھی

میرے وجود سے روشن نہ تھا وجود اس کا
بتاؤ کتنا میں خود کو سنگہار سکتی تھی

تمام عمر بھی کرتے حکومتیں دل پر
میں دل کہ تخت سے ،کیسے اتار سکتی تھی

میں دل کہ درد کی سب وحشتوں سے واقف ہوں
بسا کہ خود تجھے کیسے ، اجاڑ سکتی تھی

سلطانہ ناز 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا