بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

ہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں

تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہو

تم نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں

عہد وفا سے کس لیے خائف ہو میری جان

کر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں

وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہے

کیوں پوچھتے ہو ہم نے بتانا تو ہے نہیں

دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال

ہم نے ترے فریب میں آنا تو ہے نہیں

وہ عشق تو کرے گا مگر دیکھ بھال کے

فارسؔ وہ تیرے جیسا دوانہ تو ہے نہیں

رحمان فارس

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل