بھلا اجڑے گھروندوں سے

بھلا اجڑے گھروندوں سے رفاقت کون چاہے گا
وفا کے ذوق والوں سے محبت کون چاہے گا

جنون_ عشق پر اس نے بڑے احرام باندھے تھے
چلو اب دیکھتے رہنا خیانت کون چاہے گا

یہاں سب عہدے کے بھوکے کوئی پروا نہیں ان کو
سکندر ہو وطن کا جو سیاست کون چاہے گا

جو یوں پھرتے ہیں شہروں میں یہاں سب ہی منافق ہیں
بھلا ظالم لٹیروں سے عبادت کون چاہے گا

لکھا ہے کیا لکیروں میں پھریں کیوں دربدر تنہا
بھلا بے دین لوگوں سے تجارت کون چاہے گا

غزل کی آڑ میں میں نے حسیں جو خواب بیچے ہیں
مرے اس دل کی دھڑکن کی کتابت کون چاہے گا

کویتا غزل مہرا

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا